صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
26. باب مواقيت الصلاة - ذكر وصف أوقات الصلوات المفروضات
نماز کے اوقات کا بیان - فرض نمازوں کے اوقات کی حالت کا ذکر
حدیث نمبر: 1472
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ، فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعَصْرَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ، فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ، فَقَامَ، فَصَلاهَا، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ، فَصَلِّ، فَقَامَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، وَجَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ، فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ، فَقَامَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَهُ الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ، فَقَامَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَقَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ كُلُّهُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب سورج ڈھل چکا تھا، انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اٹھ جائیے اور ظہر کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا، انہوں نے گزارش کی: آپ اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی، پھر وہ سورج غروب ہو جانے کے بعد آپ کے پاس آئے اور عرض کی: آپ اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ جب شفق رخصت ہو گئی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: آپ اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کر لیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے یہ نماز ادا کر لی، پھر وہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب صبح صادق ہو چکی تھی، انہوں نے عرض کی: آپ اٹھیے اور نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی، اگلے دن سیدنا جبرائیل علیہ السلام اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو چکا تھا، انہوں نے گزارش کی: آپ اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کر لی، پھر وہ اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو چکا تھا، انہوں نے عرض کی: آپ اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی، پھر وہ سورج غروب ہو جانے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ ایک ہی وقت ہے اس میں کوئی فرق نہیں آیا، انہوں نے کہا: آپ اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی، پھر وہ عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ایک تہائی رات رخصت ہو چکی تھی، انہوں نے گزارش کی: آپ اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے عشاء کی نماز ادا کر لی، پھر وہ صبح کی نماز کے لیے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی، انہوں نے گزارش کی: آپ اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کر لیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: ان دو اوقات کے درمیان تمام نمازوں کا وقت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1472]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 560، 565، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 646، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 353، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1472، 1528، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 700، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 397، والترمذي فى (جامعه) برقم: 150، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1009، 1010، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14467» «رقم طبعة با وزير 1470»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (250)، «صحيح أبي داود» (419).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، حسين بن علي بن الحسين الهاشمي يقال له: حسين الأصغر، وثقه النسائي، وذكره المؤلف في «الثقات» (6/ 205)، وباقي رجال السند على شرطهما، عبد الله: هو ابن المبارك.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1472 in Urdu
وهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري