صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
35. باب مواقيت الصلاة - ذكر الأمر للمرء أن يصلي الصلاة لوقتها إذا أخرها إمامه عن وقتها ثم يصلي معه سبحة له
نماز کے اوقات کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے اگر اس کا امام اسے وقت سے مؤخر کرے، پھر اس کے ساتھ نفل کے طور پر پڑھے
حدیث نمبر: 1481
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ، بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي، فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكُمْ إِذْا أُمِّرَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا؟" قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" صَلِّ الصَّلاةَ لَمْيقَاتِهَا، وَاجْعَلْ صَلاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاجْعَلْ صَلاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً" أَعْظَمُ الدَّلِيلِ عَلَى إِجَازَةِ صَلاةِ التَّطَوُّعِ لِلَمْأْمُومِ خَلْفَ الَّذِي يُؤَدِّي الْفَرْضَ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ أَمَرَ بِضِدِّهِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى إِجَازَةِ صَلاةِ التَّطَوُّعِ جَمَاعَةً.
عمرو بن میمون اودی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس یمن تشریف لائے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف بھیجا تھا۔ میں نے فجر کے ہمراہ ان کی تکبیر سنی وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی آواز دھیمی تھی ان کے دل میں میری محبت گھر کر گئی میں ان سے اس وقت جدا ہوا جب میں نے انہیں شام میں دفن کر دیا۔ پھر میں نے ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑے عالم کا جائزہ لیا تو میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں ان کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا، جب تم پر ایسے امراء مسلط کر دیئے جائیں گے جو نماز کو اس کے مخصوص اوقات کے علاوہ ادا کریں گے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر میں انہیں پاؤں تو آپ اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور ان کے ساتھ اپن نماز کو فضل بنا لینا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو“ یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ نفل ادا کرنے والے شخص کی نماز ایسے شخص کے پیچھے جائز ہوتی ہے، جو فرض ادا کر رہا ہو۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جس نے اس کے متضاد کا حکم دیا ہے اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جا سکتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1479»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (459).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح، عبد الرحمن بن إبراهيم – وهو الملقب بدحيم: من رجال البخاري، وعبد الرحمن بن سابط: من رجال مسلم، وباقي السند على شرطهما، والوليد بن مسلم صرح بالتحديث.
الرواة الحديث:
عمرو بن ميمون الأودي ← عبد الله بن مسعود