صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
49. باب مواقيت الصلاة - ذكر السبب الذي من أجله أسفر بصلاة الغداة في أول هذه الأمة أول ما أسفر بها
نماز کے اوقات کا بیان - اس سبب کا ذکر کہ جس کی بنا پر اس امت کے شروع میں فجر کی نماز کو روشن کیا گیا جب اسے پہلی بار روشن کیا گیا
حدیث نمبر: 1496
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ ، عَنْ مُغِيثِ بْنِ سُمَيٍّ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْغَدَاةَ فَغَلَّسَ" ، فَالْتَفَتَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلاةُ؟ قَالَ:" هَذِهِ صَلاتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَلَمْا قُتِلَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ".
مغیث بن سمی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی۔ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوا اور میں نے دریافت کیا: یہ کون سی نماز ہے۔؟ انہوں نے فرمایا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ادا کی جانے والی ہماری نماز ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسے روشنی میں ادا کرنے لگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1494»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 279).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
مغيث بن سمي الأوزاعي ← عبد الله بن عمر العدوي