صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
68. باب مواقيت الصلاة - ذكر الوقت الذي يستحب أداء المرء فيه صلاة العصر
نماز کے اوقات کا بیان - اس وقت کا ذکر جو آدمی کے لیے صلاة العصر ادا کرنے کے لیے مستحب ہے
حدیث نمبر: 1517
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمُّ، مَا هَذِهِ الصَّلاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ ، قُلْتُ: وَهَذِهِ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" هَذِهِ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ رَوَى عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ خَلادٍ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمْا انْصَرَفَ"، قُلْتُ: أَيُّ صَلاةٍ صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرَ ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا الآنَ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا فَلا أَتْرُكُهَا أَبَدًا".
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں۔ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی پھر ہم وہاں سے نکلے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے انہیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا میں نے کہا: اے چچا یہ کون سی نماز ہے، جو آپ نے ادا کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے وہ نماز جو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن یحیی مازنی نے خالد بن خلاد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے جس کا تعلق بنونجار سے ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ انہوں نے نماز مکمل کی تو میں نے کہا: کہ آپ نے کون سی نماز ادا کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: کہ عصر کی۔ میں نے کہا: ہم تو ابھی عمر بن عبدالعزیز کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کر کے آ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح یہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1515»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (549)، م (2/ 110).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، عبد الله: هو ابن المبارك، وأبو أمامة: هو أسعد بن سهل بن حنيف الأنصاري، معدود في الصحابة، له رؤية، لكنه لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم، مات سنة مئة، وله اثنتان وتسعون سنة، وهو عم الراوي عنه في هذا الحديث.
الرواة الحديث:
خالد بن خلاد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري