پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
81. باب مواقيت الصلاة - ذكر الإباحة للمرء تأخير العشاء الآخرة إذا لم يخف ضعف الضعيف وكان ذلك برضا المأمومين
نماز کے اوقات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ عشاء کی آخری نماز کو اس کے پہلے وقت سے مؤخر کرے اگر اسے کمزور کی کمزوری کا خوف نہ ہو اور یہ مأمومین کی رضامندی سے ہو
حدیث نمبر: 1530
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلاةَ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ"، ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ: لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ إِلَى يَسْجُدُونَ سورة آل عمران آية 113 .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لائے لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت تمہارے علاوہ کسی بھی دین کا ماننے والا کوئی بھی شخصاللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کر رہا۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ”وہ لوگ برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی ایک امت ایسی ہے جو قیام کی حالت میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔“ یہ آیت یہاں تک ”وہ سجدہ کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1530، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11007، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3837، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5306، والبزار فى (مسنده) برقم: 1818، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10209» «رقم طبعة با وزير 1528»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن. * [عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ] قال الشيخ: هو عاصم بن بهدلة المقرئ؛ وهو حسن الحديث، حجَّةٌ في القراءة. ومن طريقه أخرجه النسائي في «الكبرى» (6/ 313 / 11073)، وأبو يعلى في «المسند» (9/ 206 / 306/ 5)، وكذا البزَّار (1/ 190 - 191).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1530 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود