علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
95. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر العلة التي من أجلها نهي عن الصلاة في هذين الوقتين
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر ان دو اوقات میں نماز سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1545
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلا تُصَلُّوا حَتَّى يَبْرُزَ، ثُمَّ صَلُّوا، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَلا تُصَلُّوا حَتَّى تَغْرُبَ، ثُمَّ صَلُّوا، وَلا تَحَيَّنُوا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلا غُرُوبِهَا، وَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سورج کا کنارہ نکل آئے، تو تم نماز ادا نہ کرو یہاں تک کہ وہ ظاہر ہو جائے پھر تم نماز ادا کرو پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تم نماز ادا نہ کرو یہاں تک کہ وہ مکمل غروب ہو جائے، تو پھر تم نماز ادا کرو اور تم اپنی نماز کے لئے سورج کے طلوع ہونے یا سورج کے غروب ہونے کے وقت کو متعین نہ کرو (یعنی اس وقت میں نماز ادا نہ کرو) کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 582، 583، 585، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 828، 829، وابن الجارود فى "المنتقى"، 309، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1545، 1548، 1566، 1567، 1569، 5996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4702» «رقم طبعة با وزير 1543»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1545 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي