صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
107. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر ثان على أن الزجر عن الصلاة بعد العصر لم يرد به صلاة التطوع كلها
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عصر کے بعد نماز سے ممانعت سے تمام نفلی نمازیں مراد نہیں
حدیث نمبر: 1561
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو ازانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جائے گی (یہ حکم اس شخص کے لئے ہے، جو یہ نماز ادا کرنا) چاہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1559»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل ابن أبي السري – وهو محمد بن المتوكل – وهو صحيح بالطريقين المتقدمتين (1559) و (1560).
الرواة الحديث:
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عبد الله بن مغفل المزني