صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب فرض الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدْمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ: الإِيمَانِ بِاللَّهِ، شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق ربیعہ قبیلے سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رکاوٹ بن جاتے ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں، آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور مالِ غنیمت میں سے خمس کی ادائیگی کرنا، اور تمہیں «الدُّبَّاءِ»، «الْحَنْتَمِ»، «النَّقِيرِ» اور «الْمُقَيَّرِ» ”دباء، حنتم، نقیر اور مقیر“ سے منع کرتا ہوں۔“ یہ روایت قتادہ نے سعید بن مسیب اور عکرمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، جبکہ ابونضرہ کے حوالے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 53، 87، 523، 1398، 3095، 3510، 4368، 4369، 6176، 7266، 7556، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 17، 1990، 1997، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 307، 1879، 2245، 2246، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 157، 172، 5365، 5403، 7295،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3690، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1599، وأحمد فى (مسنده) برقم: 187، 266»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الطحاوية» (426): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو جمرة بالجيم والراء: هو نصر بن عمران الضبعي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 157 in Urdu
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي