صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب فرض الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهُمْ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلُكَ، آلِلَّهِ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنَ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الِلَّهِمْ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنَتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ .
شریک بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ اس نے مسجد میں اس اونٹ کو بٹھایا اور پھر اسے باندھ دیا۔ پھر اس نے لوگوں سے دریافت کیا: آپ میں سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اسے کہا: یہ سفید رنگت کے مالک، ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے صاحب (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے عبدالمطلب کے صاحبزادے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا: میں تمہیں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے کچھ سوال کروں گا اور سوال کرتے ہوئے ذرا سختی کا اظہار کروں گا، تو آپ مجھ سے ناراض نہ ہوئیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں، جو مناسب لگتا ہے تم پوچھو۔ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے پرورگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے، ہم روزانہ پانچ نمازیں پڑھا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے، ہم سال میں اس مہینے میں روزے رکھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے، آپ ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوۃ وصول کریں اور اسے ہمارے غریب لوگوں میں تقسیم کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ (جانتا ہے) جی ہاں! اس شخص نے کہا: آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، میں اپنے پیچھے (موجود) اپنی قوم کا نمائندہ ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے، جس کا تعلق بنو سعد بن بنوبکر سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 154]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (504): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح؛ عيسى بن حماد: هو ابن مسلم التجيبي، وباقي السند من رجال الشيخين.
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْجُدِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا نُهِيَنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْتِيَهُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ، فَزَعَمَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ، آلِلَّهِ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَدَقَةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَال: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ، وَلا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَلَمَّا قَفَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْوُضُوءِ، وَالتَّيَمُّمِ، وَالاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَالصَّوْمِ الْفَرْضِ، وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کریں۔ تو ہماری یہ خواہش ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، اور آپ سے سوال کرے، تو ہم اسے سن لیا کریں۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا پیغام رساں ہمارے پاس آیا تھا۔ اس نے یہ بات بیان کی: آپ یہ کہتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا: آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے، اس نے دریافت کیا: زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: ان پہاڑوں کو کس نے قائم کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: ان میں فائدے کس نے رکھے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: پھر وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور پہاڑوں کو نصب کیا ہے، اور ان میں منافع رکھے ہیں اس کی قسم دے کر میں (آپ سے دریافت کرتا ہوں) کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے، ہم پر (روزانہ) پانچ نمازیں پڑھنا لازم ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے، اس نے دریافت کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو بھیجا ہے کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے، ہمارے اموال میں زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔ اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بھی بتائی ہے، ہم پر پورے سال میں ایک مہینے کے روزے رکھنا فرض ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔ اس شخص نے کہا: آپ کو اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نوعیت کے احکام جیسے وضو، تیمم، غسل جنابت، پانچ نمازیں، فرض روزہ اور اس جیسے دیگر احکام مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتے ہیں، تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 155]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نوعیت کے احکام جیسے وضو، تیمم، غسل جنابت، پانچ نمازیں، فرض روزہ اور اس جیسے دیگر احکام مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتے ہیں، تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 155]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن الخطاب البلدي: ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 139، فقال: سكن الموصل، يروي عن المؤمل بن إسماعيل، وأبي نعيم والكوفيين، حدثنا عنه أبو يعلى وأهل الموصل، وباقي السند رجاله ثقات.
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " إِنَّكَ تَقَدْمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَعَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، وَفَعَلُوهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَأَطَاعُوا بِهَذَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْحَجِّ وَالزَّكَاةِ وَمَا أَشْبَهَهُمَا مِنَ الْفَرَائِضِ الَّتِي فُرِضَتْ عَلَى بَعْضِ الْعَاقِلِينَ الْبَالِغِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ.
سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف جا رہے ہو، تم انہیں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہاللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں، تو تم انہیں بتانا کہاللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نماز میں فرض کی ہیں جب وہ ایسا کر لیں، تو انہیں بتانا کہاللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی، جب وہ اس حکم کی فرمانبرداری کریں، تو تم ان سے زکوۃ وصول کر لینا اور لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ قسم جیسے حج اور زکوۃ اور ان جیسے دیگر فرائض (وہ ہیں) جو بعض عاقل و بالغ لوگوں پر بعض مخصوص حالتوں میں فرض قرار دیئے گئے ہیں، یہ ہر حال میں فرض نہیں ہیں (یعنی زکوۃ اس پر فرض ہو گی جو صاحب نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے اور حج اس پر فرض ہو گا جس کے لئے حج کے مخصوص ایام میں مکہ تک جانا ممکن ہو۔ یہ ہر مسلمان پر ہر حال میں فرض نہیں ہے۔) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 156]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ قسم جیسے حج اور زکوۃ اور ان جیسے دیگر فرائض (وہ ہیں) جو بعض عاقل و بالغ لوگوں پر بعض مخصوص حالتوں میں فرض قرار دیئے گئے ہیں، یہ ہر حال میں فرض نہیں ہیں (یعنی زکوۃ اس پر فرض ہو گی جو صاحب نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے اور حج اس پر فرض ہو گا جس کے لئے حج کے مخصوص ایام میں مکہ تک جانا ممکن ہو۔ یہ ہر مسلمان پر ہر حال میں فرض نہیں ہے۔) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 156]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1412): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما. أبو معبد: هو نافع مولى ابن عباس المكي.
حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدْمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ: الإِيمَانِ بِاللَّهِ، شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق ربیعہ قبیلے سے ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس لئے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا اور مال غنیمت میں سے خمس کی ادائیگی کرنا اور تمہیں دباء حنتم نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔ یہ روایت قتادہ نے سعید بن مسیب اور عکرمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، جبکہ ابونضرہ کے حوالے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 157]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الطحاوية» (426): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو جمرة بالجيم والراء: هو نصر بن عمران الضبعي.