صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
128. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر ثان يصرح بإجازة صلاة من أدرك ركعة منها قبل طلوع الشمس وأخرى بعدها ضد قول من أفسد عليه صلاته
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جو شخص سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت اور اس کے بعد ایک اور پالے، اس کی نماز جائز ہے، اس دعوے کے برخلاف کہ اس کی نماز خراب ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے اس نماز کو پا لیا اور جو شخص سورج نکلے نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت کو پا لے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے، تو اس نے اس (فجر کی نماز) کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1580»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 274): م دون قوله: «وركعة بعد ما تطلع .. »؛ وهي مدرجة في نقدي.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وابن طاووس: اسمه عبد الله.
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي