صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
148. باب المساجد - ذكر الإخبار عن جواز اتخاذ المسجد للمسلمين في موضع الكنائس والبيع
مساجد کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ گرجا گھروں اور عبادت گاہوں کی جگہ پر مسجد بنائیں
حدیث نمبر: 1602
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةُ وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، وَالسَّادِسُ رَجُلٌ مِنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ:" فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا" ، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الإِدَاوَةِ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَنَادَيْنَاهُ بِالصَّلاةِ فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ.
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ہم چھ آدمی وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پانچ کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور چھٹا شخص ضبیعہ بن ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لیا۔ ہم نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ ہم نے آپ کو بتایا ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے۔ ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو عنایت کرنے کی درخواست کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا آپ نے کلی کی پھر آپ نے ہمارے لئے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اس پانی کو لے جاؤ جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس گرجے کو توڑ دینا اور اس کی جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اس کی جگہ مسجد بنا لینا۔ ہم نے عرض کی: ہمارا علاقہ بہت دور ہے۔ یہ پانی خشک ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس میں اور پانی ملاتے رہنا، کیونکہ اس نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا۔ راوی کہتے ہیں ہم روانہ ہوئے ہم نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ پانی کا وہ برتن کون اٹھائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی۔ ہم اسے ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اپنے علاقے میں آئے پھر ہم نے وہ کام کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا اس قوم کا راہب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جب ہم نے نماز کے لئے اذان دی تو اس راہب نے کہا: یہ حق کی دعوت ہے، پھر وہ بھاگ گیا۔ اس کے بعد وہ کبھی نظر نہیں آیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1600»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1120). تنبيه!! رقم (1120) = (1123) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
الرواة الحديث:
قيس بن طلق الحنفي ← طلق بن علي الحنفي