الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
196. باب المساجد - ذكر إباحة الأخبية للنساء في المسجد
مساجد کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عورتوں کے لیے مسجد میں خیمہ لگانا جائز ہے
حدیث نمبر: 1655
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَبَّارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ وَلِيدَةً كَانَتْ مِنَ الْعَرَبِ فَأَعْتَقُوهَا، فَكَانَتْ مَعَهُمْ، فَخَرَجَتْ صَبِيَّةٌ لَهُمْ عَلَيْهَا وِشَاحٌ أَحْمَرُ مِنْ سُيُورٍ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْهُ، فَمَرَّتْ بِهِ حُدَيَّاةٌ وَهُوَ مُلْقًى، فَحَسِبَتْهُ لَحْمًا فَخَطِفَتْهُ، قَالَتْ: فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، قَالَتْ: فَاتَّهَمُونِي بِهِ، فَقَطَعُوا بِي يُفَتِّشُونِي، فَفَتَّشُوا حَتَّى فَتَّشُوا قُبُلَهَا، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَقَائِمَةٌ مَعَهُمْ إِذْ مَرَّتِ الْحُدَيَّاةُ فَأَلْقَتْهُ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ، زَعَمْتُمْ، وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ، وَهُوَ ذَا هُوَ، قَالَتْ: فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ لَهَا خِبَاءٌ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِينِي، فَتَتَحَدَّثُ عِنْدِي، قَالَتْ: لا تَجْلِسُ عِنْدِي مَجْلِسًا إِلا قَالَتْ: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا:" مَا شَأْنُكِ، لا تَقْعُدِينَ مَعِي مَقْعَدًا، إِلا قُلْتِ هَذَا؟"، قَالَتْ: فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کسی عرب (قبیلے) کی ایک کنیز تھی۔ ان لوگوں نے اسے آزاد کر دیا وہ کنیز ان لوگوں کے ساتھ ہی رہی۔ ایک مرتبہ اس قبیلے والوں کی بچی نکلی جس نے چمڑے اور جواہرات سے بنا ہوا سرخ ہار پہنا ہوا تھا۔ اس لڑکی نے اس ہار کو ایک جگہ رکھا۔ اس کے پاس سے چیل گزری وہ ہار وہاں رکھا ہوا تھا چیل یہ سمجھی کہ شاید یہ گوشت ہے۔ اس نے اسے اُچک لیا۔ وہ کنیز بیان کرتی ہیں۔ لوگوں نے اس ہار کو تلاش کیا جب وہ انہیں نہیں ملا تو انہوں نے مجھ پر الزام لگایا اور انہوں نے میری پوری تلاشی لی، یہاں تک کہ انہوں نے میری شرم گاہ کی بھی تلاشی لی وہ کنیز بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ہی کھڑی ہوئی تھی۔ اسی دوران وہ چیل وہاں سے گزری اس نے اس ہار کو پھینکا جو ان کے درمیان آ کر گرا۔ وہ کنیز کہتی ہے میں نے کہا: یہ ہے وہ جس کی وجہ سے تم نے مجھ پر الزام عائد کیا تھا۔ تم لوگوں کا یہ گمان تھا اور میں اس سے بری تھی یہ رہا وہ ہار، وہ کنیز بیان کرتی ہیں۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ اس کنیز کے لئے مسجد میں ایک خیمہ لگایا گیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ وہ کنیز میرے پاس آیا کرتی تھی، اور میرے ساتھ بات چیت کیا کرتی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہ جب بھی میرے پاس آ کر بیٹھتی تھیں تو یہی شعر کہا: کرتی تھی۔ ”ہار والا دن میرے پروردگار کی حیران کن نشانیوں میں سے ایک تھا بے شک اس نے مجھے کفر کی سرزمین سے نجات دی ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس کنیز سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے، جب تم میرے پاس آ کر بیٹھتی ہو، تو یہ شعر کہتی ہو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ پھر اس کنیز نے مجھے یہ پورا واقعہ سنایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1653»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1332): خ (439).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق