صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
218. باب الأذان - ذكر الخبر الدال على أن النبي صلى الله عليه وسلم هو الآمر لبلال تثنية الأذان وإفراد الإقامة لا غيره
اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اذان کو دہرانے اور اقامت کو واحد کرنے کا حکم دیا، نہ کہ کوئی اور
حدیث نمبر: 1678
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عَلَمْا لِلصَّلاةِ، فَأُمِرَ بِلالٌ أَنْ " يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے اس چیز کو تلاش کیا جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اطلاع دیں اور وہ چیز نماز کے لئے مخصوص نشان ہو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات جفت تعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں کہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1678]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1676»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1673). تنبيه!! رقم (1673) = (1675) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري