صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
267. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر خبر ثالث يصرح بصحة ما ذكرناه
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 1730
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ، وَقَبَّلْتُهَا، وَبَاشَرْتُهَا، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ، إِلا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114. قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ، فَقَالُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَهُ خَاصَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک باغ میں ایک عورت کو ملا، اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا، میں نے اس کا بوسہ لیا، میں نے اس کے ساتھ مباشرت کی، میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا لیکن میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَّ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، تو یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت فرمایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حکم اس کے لیے خاص ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 526، 4687، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2763، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 312، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1728، 1729، 1730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3112، 3112 م 1، 3112 م 2، 3114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1398، 4254، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3727» «رقم طبعة با وزير 1727»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1730 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود