صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
269. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر البيان بأن الحق الذي في هذا الخبر قصد به الإيجاب
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں حق سے مراد وجوب ہے
حدیث نمبر: 1732
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، بِفَمِ الصِّلْحِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ، إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ. فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدْ أَكْمَلَهُنَّ وَلَمْ يَنْتَقِصْهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عُبَادَةَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، يُرِيدُ بِهِ أَخْطَأَ. وَكَذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ، حَيْثُ قَالَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ. وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لأَهْلِ الْحِجَازِ إِذَا أَخْطَأَ أَحَدُهُمْ يُقَالُ لَهُ: كَذَبَ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا نَزَّهَ أَقْدَارَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِلْزَاقِ الْقَدْحِ بِهِمْ، حَيْثُ قَالَ: يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ... سورة التحريم آية 8 فَمَنْ أَخْبَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ أَنَّهُ لا يُخْزِيهِ فِي الْقِيَامَةِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ لا يُجْرَحَ. وَالرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ عُبَادَةَ هَذَا: هُوَ أَبُو رُفَيْعٍ الْمُخْدَجِيُّ.
ابن محیریز بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ولید! میں نے سیدنا ابومحمد انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وتر واجب ہیں۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابومحمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جو شخص انہیں ادا کرے گا اور مکمل کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جو شخص انہیں ادا کرے گا (لیکن) ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کرے گا، تو اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے گا تو وہ عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر رحم کرے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ”ابومحمد نے جھوٹ کہا ہے“ اس سے مراد انہوں نے غلط کہا ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص غلط بات کہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے ”اس نے جھوٹ کہا ہے“۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس چیز سے محفوظ رکھا ہے کہ ان میں کوئی قابلِ اعتراض چیز ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ﴾ [سورة التحريم: 8] ”اس دن اللہ تعالیٰ نبی اور اس کے ساتھ موجود اہل ایمان کو رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور...“ تو جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی کہ وہ قیامت کے دن انہیں رسوا نہیں کرے گا تو وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان پر جرح نہ کی جائے۔) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرنے والا شخص ابورفیع مخدجی تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1731، 1732، 2417، وأبو داود فى (سننه) برقم: 425، 1420، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1618، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1401، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23133، وأخرجه الحميدي فى (مسنده) برقم: 392» «رقم طبعة با وزير 1729»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (452).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين، وفي ترجمة ابن محيريز – وهو عبد الله- من «التهذيب»: أنه حدث عن عبادة بن الصامت.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1732 in Urdu
عبد الله بن محيريز الجمحي ← عبادة بن الصامت الأنصاري