پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
377. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ما لي أنازع القرآن أراد به رفع الصوت لا القراءة خلفه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں قرآن سے کیوں جھگڑا کروں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
حدیث نمبر: 1845
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى؟". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا. فَقَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کی ہے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 916،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 828، 829، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20129، والحميدي فى (مسنده) برقم: 857» «رقم طبعة با وزير 1842»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (782): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1845 in Urdu
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي