پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
380. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم قد عرفت أن بعضكم خالجنيها أراد به رفع الصوت لا القراءة خلفه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میں نے جان لیا کہ تم میں سے بعض اس سے جھگڑتے ہیں" سے مراد بلند آواز سے قراءت ہے، نہ کہ امام کے پیچھے قراءت
حدیث نمبر: 1848
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا. قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَفْعَلُوا"، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ، إِذِ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا إِذَا أَرَادَتِ الأَمْرَ بِالشَّيْءِ عَلَى سَبِيلِ التَّأْكِيدِ، تُقَدِّمُهُ لَفْظَةَ زَجْرٍ، ثُمَّ تُعْقِبُهُ الأَمْرَ الَّذِي تُرِيدُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ کیلئے قرأت کرنا دشوار ہوا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا: میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو۔ راوی بیان کرتا ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! ہم تیزی سے تلاوت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ایسا نہ کرو“ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، اس سے مراد ابتدائی طور پر ازسرنو کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں جب تاکید کے طور پر کسی چیز کا حکم دینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو پہلے ممانعت کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حکم ہوتا ہے جو وہ مراد لیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 756، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1782، 1785، 1786، 1792، 1793، 1848، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 876، وأبو داود فى (سننه) برقم: 822، 823، 824، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 247، 311، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1278، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 837، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1213، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23111، والحميدي فى (مسنده) برقم: 390» «رقم طبعة با وزير 1845»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - تقدم سندا ومتنا (1782). تنبيه!! رقم (1782) = (1785) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1848 in Urdu
محمود بن الربيع الخزرجي ← عبادة بن الصامت الأنصاري