صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
379. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر لم يسمعه قتادة من زرارة بن أوفى
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر قتادہ نے زرارہ بن اوفیٰ سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 1847
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي قَرَأَ؟ أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، ایک شخص نے آپ کے پیچھے سورہ اعلی کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: ”تم میں سے وہ کون شخص ہے جس نے تلاوت کی ہے؟“ یا شاید یہ فرمایا: ”تم میں سے کون تلاوت کرنے والا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: میں ہوں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لیے رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 916،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 828، 829، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20129، والحميدي فى (مسنده) برقم: 857» «رقم طبعة با وزير 1844»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، محمد: هو ابن جعفر الملقب بغندار.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1847 in Urdu
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي