صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
396. باب صفة الصلاة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أن خبر أبي حميد الذي ذكرناه معلول
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ ابو حمید کی خبر علیل ہے
حدیث نمبر: 1866
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَحَدُ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: فَأَرِنَا. قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ " فَبَدَأَ يُكَبِّرُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتِهِ غَيْرَ مُقَنِّعٍ وَلا مُصَوِّبٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ، فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتِهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَجَلَسَ، وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ الأُخْرَى، فَكَبَّرَ، فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الأُخْرَى، وَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ، كَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأَخِيرَتَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ: سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" . قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ: وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ،" فِي التَّشَهُّدِ: أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَيَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا عباس بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک محفل میں موجود تھے، وہاں ان کے والد بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، اس محفل میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ موجود تھے جن کا تعلق انصار سے تھا۔ ان حضرات نے نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بولے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کہ پھر آپ ہمیں دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، دیگر حضرات دیکھ رہے تھے، انہوں نے شروع میں تکبیر کہی، دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے، پھر انہوں نے رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہی، پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے، اپنے سر کو بالکل جھکایا بھی نہیں اور اوپر بھی نہیں کیا، پھر انہوں نے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور اپنے دونوں پاؤں کے کنارے زمین پر رکھے، وہ سجدے کی حالت میں تھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو «تَوَرُّک» کے طور پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر انہوں نے تکبیر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کیا، تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے لیکن انہوں نے «تَوَرُّک» نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور دوسری رکعت ادا کی۔ اس طرح تکبیر کہی اور دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھ گئے۔ پھر جب انہوں نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے آخری دو رکعات بھی اسی طرح ادا کیں، پھر جب انہوں نے سلام پھیرا تو پہلے دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہا۔ حسن بن حر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ عیسیٰ نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، اس حدیث میں تشہد کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں: انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھا اور پھر انہوں نے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محمد بن عمرو نے یہ روایت سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت عباس بن سہل کے حوالے سے ان کے والد رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ ان کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 828، وابن الجارود فى "المنتقى"، 215، 216، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 587، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1865، 1866، 1867، 1869، 1870، 1871، 1876، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 730، والترمذي فى (جامعه) برقم: 260، 270، 293، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 803، 862، 863، 1061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24086» «رقم طبعة با وزير 1863»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (118).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، عيسى بن عبد الله بن مالك: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 231، وترجم له البخاري في «التاريخ الكبير» 6/ 389 - 390، وابن أبي حاتم 6/ 280، فلم يذكرا فيه جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجاله ثقات، أبو خيثمة: هو زهير بن معاوية الجعفي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1866 in Urdu
العباس بن سهل الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي