صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
402. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر أمته برفع اليدين في الصلاة عند إرادتهم الركوع وعند رفعهم رؤوسهم منه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھانے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1872
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلَيْهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلِينَا، سَأَلْنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِينَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نوجوان اور ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیس دن قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہوا کہ ہمیں اپنے اہل خانہ (سے دور رہنے میں) دشواری ہو رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے پیچھے اہل خانہ کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ، تم انہیں تعلیم دو، تم انہیں حکم دو اور اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو شخص تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1872]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 628، 630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 674، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 395، 396، 397، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1658، 1872، 2128، 2129، 2130، 2131، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 633، وأبو داود فى (سننه) برقم: 589، والترمذي فى (جامعه) برقم: 205، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1288، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 979، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1068، 1069، 1311، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15838» «رقم طبعة با وزير 1869»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (213).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله رجال الشيخين غير مسدد بن مسرهد، فإنه من رجال البخاري.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1872 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي