صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
410. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 1881
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَفَعَ أَحَدُنَا يَدَهُ يُمْنَةً وَيُسْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، أَوَلا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمَنْ عَنْ يَسَارِهِ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پہلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے، تو ہم میں سے کوئی ایک شخص دائیں طرف اور بائیں طرف (سلام پھیرتے ہوئے) اپنا ہاتھ بلند کرتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، میں تمہیں یوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، جس طرح وہ سرکش گھوڑوں کی دم ہوتے ہیں کیا تم میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی نہیں ہے، وہ اپنا ہاتھ اپنے زانو پر رکھے اور پھر اپنے دائیں طرف موجود شخص اور بائیں طرف موجود شخص کو سلام کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1881]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1878»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (916): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير عبيد الله بن القبطية، فإنه من رجال مسلم، وانظر ما قبله و (1878).
الرواة الحديث:
مهاجر بن القبطية المكي ← جابر بن سمرة العامري