الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
485. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن المرء مأمور بالصلاة على النبي المصطفى صلى الله عليه وسلم في صلاته عند ذكره إياه بعد التشهد
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کو اپنی نماز میں نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ بھیجنے کا حکم ہے جب وہ تشہد کے بعد ان کا ذکر کرے
حدیث نمبر: 1960
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يَدْعُو فِي صَلاتِهِ، لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِلَ هَذَا". ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَيَدَعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ" .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے دوران دعا مانگتے ہوئے سنا: اس نےاللہ تعالیٰ کی حمد بھی بیان نہیں کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھی نہیں بھیجا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر آپ نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا جب کوئی شخص نماز ادا کرے (یا دعا مانگنے لگے) تو اسے پہلےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنی چاہئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہئے۔ اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1957»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (1331).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح غير عمرو بن مالك الجنبي، وهو ثقة، روى له أصحاب السنن، ولم يقيد نسبته إسماعيل القاضي في فضل الصلاة على النبي ص86، فالتبس أمره على الشيخ ناصر الألباني، فظنه عمرو بن مالك النكري، فحسن إسناده، لأن النكري لا يرقى حديثه إلى الصحة، وما أدري كيف وقع له ذلك، فالنكري من تبع التابعين لا تعرف له رواية عن الصحابة، وجاء تكنية عمرو بن مالك عند إسماعيل القاضي وغيره أبا علي، وهي كنية الجنبي، وأما النكري، فكنيته أبو يحيى، أو أبو مالك، ومعظم المصادر التي خرج منها الحديث في تعليقته قيدت نسبته الجنبي.
الرواة الحديث:
عمرو بن مالك الهمداني ← فضالة بن عبيد الأنصاري