صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
496. باب صفة الصلاة - ذكر جواز دعاء المرء في الصلاة بما ليس في كتاب الله
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی جواز کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں ایسی دعا مانگے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو
حدیث نمبر: 1971
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَصَلَّى صَلاةً خَفَّفَهَا، فَمَرَّ بِنَا فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، خَفَّفْتَ الصَّلاةَ. قَالَ: أَوَ خَفِيفَةً رَأَيْتُمُوهَا؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ مَضَى، فَأَتْبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، قَالَ عَطَاءٌ: اتَّبَعَهُ أَبِي وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَقُولَ اتَّبَعْتُهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَهُمْ بِالدُّعَاءِ: " اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَكَلِمَةَ الْعَدْلِ وَالْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لا يَبِيدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَأَسْأَلُكَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ" .
عطاء بن سائب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ہم لوگ مسجد میں موجود تھے۔ اسی دوران سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اندر آئے انہوں نے نماز ادا کی اور مختصر ادا کی پھر وہ ہمارے پاس سے گزرے تو انہیں کہا: گیا: اے ابویقظان آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم نے جو نماز دیکھی ہے وہ مختصر ہے۔ ہم نے جواب دیا: جی ہاں انہوں نے فرمایا: میں نے تو اس میں وہ دعا بھی پڑھی ہے، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا ہے، پھر وہ تشریف لے گئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے پیچھے گئے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، میرے والد ان کے پیچھے گئے تھے لیکن انہیں یہ کہنا اچھا نہیں لگا، میں ان کے پیچھے گیا تھا۔ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا: وہ واپس آیا اور ان لوگوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا: (اس کے الفاظ یہ تھے) ”اے اللہ! میں تیرے غیب کے علم اور اپنی مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ سوال کرتا ہوں، تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو اور تو مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو اے اللہ! میں غیب اور شہادت (ہر حالت) میں تجھ سے ڈرنے کا سوال کرتا ہوں اور ناراضگی اور رضا مندی (ہر حالت میں) انصاف اور حق کی بات کہنے (کا تجھ سے سوال کرتا ہوں) اور میں غربت اور خوشحالی (دونوں حالتوں میں) میانہ روی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہیں ہو گی اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو منقطع نہیں ہو گی۔ میں تیرے فیصلے پر تجھ سے رضا مندی کا سوال کرتا ہوں اور میں مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک (یعنی مرنے کے بعد کی اچھی زندگی) کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیرے دیدار کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ (یہ سب کچھ) کسی نقصان کے بغیر اور کسی گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہو، اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ کر دے اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1968»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»، «الكلم الطيب»، «الظلال» (129).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، فإن سماع حماد بن زيد من عطاء بن السائب قبل الاختلاط.
الرواة الحديث:
السائب بن مالك الثقفي ← عمار بن ياسر العنسي