صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
517. فصل في القنوت - ذكر وصف التسليم الذي يخرج المرء به من صلاته
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس تسلام کی کیفیت کا ذکر جس کے ذریعے آدمی اپنی نماز سے نکلتا ہے
حدیث نمبر: 1992
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ" . فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: لَمْ يُسْمَعْ هَذَا الْخَبَرُ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: كُلَّ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: لا. قَالَ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: لا. قَالَ: فَالنِّصْفَ؟ قَالَ: لا. قَالَ: فَهُوَ مِنَ النِّصْفِ الَّذِي لَمْ تَسْمَعْ.
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔ زہری رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی کہ یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر نہیں سنی گئی ہے۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حدیث تم نے سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے دریافت کیا: کیا دو تہائی سن رکھی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے دریافت کیا: کیا نصف سن رکھی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا: یہ اس نصف حصے سے تعلق رکھتی ہے، جسے تم نے نہیں سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 582، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 726، 727، 1712، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1315،، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 915، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3028، 3029، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1346، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1502» «رقم طبعة با وزير 1989»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح دون قصة الزهري - «الإرواء» (368)، «صفة الصلاة»، «التعليق على ابن خزيمة» (1712): م دون قصة الزهري.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، مصعب بن ثابت –وان ضعفه غير واحد من الأئمة- تابعه عليه غير واحد من الثقات، وقد ذكره المؤلف أولاً في «المجروحين» 3/ 28 - 29 وقال: منكر الحديث، ثم أورده في «الثقات» 7/ 478 فقال: وقد أدخلته في «الضعفاء»، وهو ممن استخرت الله فيه، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين، عبد الله: هو ابن المبارك، وإسماعيل بن محمد: هو ابن سعد بن أبي وقاص الزهري المدني.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1992 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري