صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
72. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الجنة إنما تجب لمن شهد لله جل وعلا بالوحدانية وقرن ذلك بالشهادة للمصطفى صلى الله عليه وسلم بالرسالة-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جنت صرف اسی کے لیے واجب ہے جو اللہ جل وعلا کی وحدانیت کی گواہی دے اور اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت بھی دے۔
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي: مَهْ، لِمَ تَبْكِي؟ فَوَاللَّهِ لَئِنَ اسْتُشْهِدْتُ لأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ شُفِّعْتَ لأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لأَنْفَعَنَّكَ، ثُمّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِلا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثَكُمُوهُ الْيَوْمَ، وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَهُ الِلَّهِ عَلَى النَّارِ" .
صنابحی بیان کرتے ہیں: میں، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت وہ قریب الموت تھے۔ میں رونے لگا، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: رک جاؤ تم کیوں رو رہے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی، تو میں تمہارے بارے میں ضرور گواہی دوں گا اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا، تو میں تمہارے لئے شفاعت کروں گا اور اگر مجھ سے ہو سکا تو میں تمہیں فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: اللہ کی قسم! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بھی حدیث سنی، جس میں تمہارے لئے بہتری تھی، وہ حدیث میں نے تمہارے سامنے بیان کر دی۔ صرف ایک حدیث بیان نہیں کی اور وہ میں آج تمہارے سامنے بیان کروں گا، کیونکہ اب میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 202]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن: م (1/ 43).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. ابن محيريز: هو عبد الله، والصُّنابحي: هو عبد الرحمن بن عسيلة، من كبار التابعين.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي ← عبادة بن الصامت الأنصاري