صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
563. باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر حط الخطايا ورفع الدرجات بالخطى من أتى الصلاة حتى يرجع إلى بيته
امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا ذکر کہ نماز کے لیے آنے والے کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں جب تک وہ اپنے گھر واپس نہ آئے
حدیث نمبر: 2039
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ، فَخُطْوَتَاهُ: خُطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً، وَخَطْوَةٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، ذَاهِبًا وَرَاجِعًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْعَرَبُ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الأَمْرِ، كَمَا تُضِيفُ إِلَى الْفَاعِلِ، وَرُبَّمَا أَضَافَتِ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ نَفْسِهِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الأَمْرِ، فَإِخْبَارُ ابْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، أَرَادَ بِهِ أَنَّ الْحَالِقَ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ لا نَفْسُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُضِيفَ الْفِعْلُ إِلَى الأَمْرِ، كَمَا يُضَافُ ذَلِكَ إِلَى الْفَاعِلِ، وَفِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، الَّذِي ذَكَرْنَاهُ: خُطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً، أَضَافَ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ، لا أَنَّ الْخُطْوَةَ تَمْحُو السَّيِّئَةَ نَفْسَهَا، وَلَكِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا هُوَ الَّذِي يَتَفَضَّلُ عَلَى عَبْدِهِ بِذَلِكِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جاتا ہے، تو اس کے دو قدموں میں سے ایک قدم کسی گناہ کو مٹاتا ہے اور ایک قدم نیکی لکھتا ہے، اس شخص کے جاتے ہوئے بھی اور واپس آتے ہوئے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اہل عرب بعض اوقات کسی فعل کی نسبت اصل معاملے کی طرف کر دیتے ہیں، جس طرح وہ اس کی نسبت فاعل کی طرف کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات فعل کی نسبت نفس فعل کی طرف ہوتی ہے، جس طرح اس کی نسبت امر کی طرف ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اطلاع دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر مونڈ لیا تھا، اس سے مراد یہ ہے کہ سر مونڈنے والے (حجام) نے ایسا کیا تھا، یہ مراد نہیں ہے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا۔ تو یہاں فعل کی نسبت امر کی طرف کی گئی ہے، جس طرح اس کی نسبت فاعل کی طرف کی جاتی ہے۔ جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول وہ روایت جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ”ایک قدم گناہ کو مٹا دیتا ہے“ تو یہاں فعل کی نسبت فعل کی طرف کی گئی ہے؛ کیونکہ وہ قدم گناہ کے وجود کو نہیں مٹاتا بلکہ اللہ تعالیٰ بندے پر یہ فضل فرماتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2039، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6710، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14683» «رقم طبعة با وزير 2037»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 125).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، رجاله رجال الصحيح غير حُيَيّ بن عبد الله المعافري، وثقة ابن معين وغيره، وضعفه أحمد وغيره، وقال ابن عدي: أرجو أنه لا بأس إذا روى عنه ثقة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2039 in Urdu
عبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي