الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
595. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2074
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ الْمَدِينِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عَائِشَةَ وَبَيْنَ بَعْضِ بَنِي أَخِيهَا شَيْءٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا جَلَسَ، جِيءَ بِالطَّعَامِ، فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ لَهُ: اجْلِسْ غُدَرُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْمَرْءُ مَزْجُورٌ عَنِ الصَّلاةِ عِنْدَ وُجُودِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، وَالْعِلَّةُ الْمُضْمَرَةُ فِي هَذَا الزَّجْرِ هِيَ أَنْ يَسْتَعْجِلَهُ أَحَدُهُمَا حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ لَهُ أَدَاءُ الصَّلاةِ عَلَى حَسْبِ مَا يَجِبُ مِنْ أَجْلِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَصْرِيحُ الْخِطَابِ:" وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ"، وَلَمْ يَقُلْ وَلا هُوَ يَجِدُ الأَخْبَثَيْنِ، وَالْجَمْعُ بَيْنَ الأَخْبَثَيْنِ قُصِدَ بِهِ وُجُودُهُمَا مَعًا. وَانْفِرَادُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لا اجْتِمَاعُهُمَا دُونَ الانْفِرَادِ. أَبُو حَزْرَةَ: يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ.
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ان کے کسی بھانجے کے درمیان کوئی ناراضگی تھی۔ وہ بھانجے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جب وہ بیٹھے تو کھانا آ گیا وہ اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: او نالائق بیٹھے رہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”کوئی بھی شخص کھانے کی موجودگی میں نماز ادا نہ کرے اور اس وقت نماز ادا نہ کرے جب وہ دو خبیث چیزوں یعنی پیشاب اور پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ جب اسے پیشاب یا پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو۔ تو اس وقت اسے نماز ادا نہیں کرنی چاہئے۔ اس ممانعت میں پوشیدہ علت یہ ہے کہ اگر آدمی کو ان دونوں کے کرنے کی ضرورت درپیش ہو، تو آدمی صحیح طریقے سے نماز ادا نہیں کر سکے گا۔ اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ روایت کے الفاظ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آدمی دو خبیث چیزوں کو روکنے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی کہ وہ دو خبیث چیزوں کو محسوس نہ کر رہا ہو۔ اور یہاں دو خبیث چیزوں کو جمع کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں کا وجود ایک ساتھ پایا جائے یا ان دونوں میں سے کوئی ایک پایا جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ جب یہ دونوں اکٹھے ہوں تو یہ حکم رہے گا اور جب کوئی ایک ہو، تو یہ حکم نہیں رہے گا۔ ابوجزره نامی راوی کا نام یعقوب بن مجاہد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2071»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
الحسن بن سهل الجعفري: روى عنه الحسن بن سفيان وأبو زرعة وغيرهما، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 177، وأورده ابن أبي حاتم 3/ 17، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين غير أبي حزرة، فإنه من رجال مسلم وحده.
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق