علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
621. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر وصف الشيء الذي من أجله كانوا يسيئون الظن بمن وصفنا نعته
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس چیز کی کیفیت کا ذکر جس کی وجہ سے ہمارے بیان کردہ افراد کے بارے میں بدگمانی کی جاتی تھی
حدیث نمبر: 2100
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلاةِ إِلا مُنَافِقٌ، قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ، أَوْ مَرِيضٌ، وَإِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمُرُّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلاةَ. وَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَمِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، نماز (باجماعت) سے پیچھے صرف وہی شخص رہتا تھا جو منافق ہوتا تھا اور اس کا نفاق معلوم ہوتا تھا، یا پھر بیمار شریک نہیں ہوتا تھا۔ اگر کسی بیمار کو دو آدمیوں کے درمیان چل کر آنا ممکن ہوتا تو وہ نماز (با جماعت) میں شریک ہوا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں ایک اس مسجد میں نماز ادا کرنا ہے جہاں اذان دی جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2100]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 654، 654، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 848، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 550، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 777، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5030، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3693» «رقم طبعة با وزير 2097»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (559): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير أبي الأحوص – واسمه عوف بن مالك الجشمي – فإنه من رجال مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2100 in Urdu
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود