صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
629. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر رابع يدل على أن هذا الأمر أمر فريضة وإيجاب على ما ذكرناه قبل
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ہمارے بیان کردہ کے مطابق فرض اور واجب ہے
حدیث نمبر: 2108
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا، فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، قَالَ أَنَسٌ: فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ثُمَّ قَالَ حِينَ سَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے گر گئے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، جب وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 378، 689، 732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 793،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 361، 690، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 876، 1238،وأحمد فى (مسنده) برقم: 12257» «رقم طبعة با وزير 2105»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (2099). تنبيه!! رقم (2099) = (2102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عمرو بن عثمان وأبيه، وهما ثقتان.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2108 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري