🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
630. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر خامس يدل على أن هذا الأمر أمر فريضة لا فضيلة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - پانچویں خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم فرض ہے، نہ کہ فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2110
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ". أَخْبَرْنَاهُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ، فَقَالَ: ثِقَةٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ، أَنَّ صَلاةَ الْمَأْمُومِينَ قُعُودًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا الَّتِي أَمَرَ عِبَادَهُ وَهُوَ عِنْدِي ضَرْبٌ مِنَ الإِجْمَاعِ الَّذِي أَجْمَعُوا عَلَى إِجَازَتِهِ، لأَنَّ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ أَفْتَوْا بِهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَقَيْسُ بْنُ قَهْدٍ، وَالإِجْمَاعُ عِنْدَنَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ شَهِدُوا هُبُوطَ الْوَحْيِ وَالتَّنْزِيلِ وَأُعِيذُوا، مِنَ التَّحْرِيفِ وَالتَّبْدِيلِ حَتَّى حَفِظَ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَصَانَهُ عَنْ ثَلْمِ الْقَادِحِينَ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ خِلافٌ لِهَؤُلاءِ الأَرْبَعَةِ لا بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ وَلا مُنْقَطِعٍ، فَكَأَنَّ الصَّحَابَةَ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ الإِمَامَ إِذَا صَلَّى قَاعِدًا كَانَ عَلَى الْمَأْمُومِينَ أَنْ يُصَلُّوا قُعُودًا، وَقَدْ أَفْتَى بِهِ مِنَ التَّابِعِينَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو الشَّعْثَاءِ، وَلَمْ يُرْوَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ التَّابِعِينَ أَصْلا بِخِلافِهِ لا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ وَلا وَاهٍ، فَكَأَنَّ التَّابِعِينَ أَجْمَعُوا عَلَى أَجَازَتِهِ، وَأَوَّلُ مَنْ أَبْطَلَ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ صَلاةَ الْمَأْمُومِ قَاعِدًا إِذَا صَلَّى إِمَامُهُ جَالِسًا الْمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ صَاحِبُ النَّخَعِيِّ، وَأَخَذَ عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثُمَّ أَخَذَ عَنْ حَمَّادٍ أَبُو حَنِيفَةَ وَتَبِعَهُ عَلَيْهِ مَنْ بَعْدَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَعْلَى شَيْءٍ احْتَجُّوا بِهِ فِيهِ شَيْءٌ رَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ بَعْدِي جَالِسًا". وَهَذَا لَوْ صَحَّ إِسْنَادُهُ لَكَانَ مُرْسَلا وَالْمُرْسَلُ مِنَ الْخَبَرِ وَمَا لَمْ يُرْوَ سِيَّانِ فِي الْحُكْمِ عِنْدَنَا، لأَنَّا لَوْ قَبْلِنَا إِرْسَالَ تَابِعِيٍّ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً فَاضِلا عَلَى حُسْنِ الظَّنِّ، لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِهِ، عَنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِهِ عَنْ تَبَعِ الأَتْبَاعِ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا قَبُولُ مِثْلِ ذَلِكَ عَنْ تُبَّاعِ التَّبَعِ، وَمَتَى قَبْلِنَا ذَلِكَ لَزِمَنَا أَنْ نَقْبَلَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ إِذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي هَذَا نَقْضُ الشَّرِيعَةِ، وَالْعَجَبُ مِمَّنْ يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذَا الْمُرْسَلِ وَقَدْ قَدَحَ فِي رِوَايَتِهِ زِعِيمُهُمْ فِيمَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ وَلا لَقِيتُ فِيمَنْ لَقِيتُ أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، مَا أَتَيْتُهُ بِشَيْءٍ قَطُّ مِنْ رَأْيٍ إِلا جَاءَنِي فِيهِ بِحَدِيثٍ، وَزَعَمَ أَنَّ عِنْدَهُ كَذَا وَكَذَا أَلْفَ حَدِيثٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْطِقْ بِهَا، فَهَذَا أَبُو حَنِيفَةَ يُجَرِّحُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ، وَيُكَذِّبُهُ ضِدَّ قَوْلِ مَنِ انْتَحَلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَذْهَبَهُ، وَزَعَمَ أَنَّ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا فِي كُتُبِهِمْ: فُلانٌ ضَعِيفٌ غِيبَةٌ، ثُمَّ لَمَّا اضْطَرُّهُ الأَمْرُ جَعَلَ يَحْتَجُّ بِمَنْ كَذَّبَهُ شَيْخُهُ فِي شَيْءٍ يَدْفَعُ بِهِ سُنَّةً مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمَّا جَابِرٌ الْجُعْفِيَّ فَقَدْ ذَكَرْنَا قِصَّتَهُ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ بِالْبَرَاهِينِ الْوَاضِحَةِ الَّتِي لا يَخْفَى عَلَى ذِي لُبٍّ صِحَّتُهَا فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ تِكْرَارِهَا فِي هَذَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم اپنی آئمہ کی اطاعت کرو۔ یہ روایت امام ابویعلی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیی بن معین سے عقبہ نامی راوی کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: یہ ثقہ ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ تو مقتدیوں کا بیٹھ کر نماز ادا کرنااللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا حصہ ہے جس کا اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے اور میرے نزدیک یہ اس اجماع کی ایک قسم ہے۔ جس کو جائز قرار دینے پر سب کا اتفاق ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار حضرات نے اس کے مطابق فتوی دیا ہے۔ سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا قیس بن قہد رضی الله عنہ۔ ہمارے نزدیک اصل اجماع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوتا ہے جنہوں نے وحی کے نزول کا مشاہدہ کیا اور انہیں تحریف اور تبدیلی سے بچا لیا گیا۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ان کے دین کو محفوظ کر لیا۔ اور انہیں تنقید کرنے والوں کی خرابی سے بچا لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی ایک حوالے سے بھی ان چار حضرات کے خلاف رائے نقل نہیں کی گئی نہ کسی متصل سند کے ذریعے اور نہ ہی کسی منقطع سند کے ذریعے، تو گویا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ جب امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو مقتدیوں پر یہ بات لازم ہو گی کہ وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں۔ تابعین نے بھی اس کے مطابق فتوی دیا ہے جن میں جابر بن زید، ابوشعثاء شامل ہیں۔ اور تابعین میں سے بھی کسی ایک تابعی کے حوالے سے بھی اس کے برخلاف رائے منقول نہیں ہے۔ نہ ہی کسی صحیح سند کے ہمراہ منقول ہے اور نہ ہی کسی واہی سند کے ہمراہ منقول ہے۔ گویا تابعین کا بھی اس کو جائز قرار دینے پر اتفاق ہو گیا۔ مقتدی کے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کو، جبکہ امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو۔ سب سے پہلے اس امت میں مغیرہ بن مقسم نے غلط قرار دیا ہے۔ یہ ابراہیم نخعی کے شاگرد ہیں۔ ان سے یہ حکم حماد بن ابوسلیمان نے حاصل کیا (جو امام ابوحنیفہ کے استاد ہیں) پھر حماد سے یہ حکم امام ابوحنیفہ نے اور ان کے بعد ان کے پیروکار اصحاب نے یہ حاصل کیا۔ یہ حضرات اس بارے میں جو دلیل پیش کرتے ہیں ان میں سے سب سے بلند دلیل وہ روایت ہے جسے جابر جعفی نے امام شعبی کے حوالے سے نقل کیا ہے اور وہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میرے بعد کوئی بھی شخص بیٹھ کر امامت نہ کرے اس روایت کی سند کو اگر مستند بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ روایت مرسل ہے۔ اور وہ روایت جو مرسل ہو۔ اور وہ روایت جو نقل نہیں ہوئی۔ ہمارے نزدیک حکم میں برابر ہوں گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی تابعی کی مرسل روایت کو قبول کر لیں۔ اگرچہ وہ تابعی ثقہ اور فاضل ہو۔ اور ہم حسن ظن کی وجہ سے ایسا کر لیں تو ہم پر یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اس کی مانند کسی تبع تابعی سے بھی (منقول مرسل روایت کو) قبول کر لیں۔ اور جب ہم اس کو قبول کریں گے تو ہم پر یہ بات لازم آئے گی ہم اس طرح کی روایت تبع تابعی سے بھی قبول کر لیں۔ جب ہم اسے قبول کر لیں گے تو ہم پر یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اسے تبع تابعین کے شاگردوں سے بھی اسے قبول کر لیں۔ اور جب ہم اسے قبول کر لیں گے۔ تو ہمارے لیے یہ بات ضروری ہو گی کہ ہم ہر شخص سے (مرسل روایت) قبول کر لیں۔ جب بھی وہ شخص یہ بات بیان کرے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ تو اس صورت میں شریعت کالعدم ہو جائے گی اور حیرانگی اس شخص پر ہوتی ہے۔ جو اس طرح کی مرسل روایت کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے حالانکہ اس روایت کے بارے میں ان کے بڑوں نے اعتراضات کیے ہیں۔ حسین بن عبداللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے۔ ابویحیی حمانی بیان کرتے ہیں میں نے امام ابوحنیفہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میری جن لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ان میں سے عطاء بن ابی رباح سے زیادہ فضیلت والا کوئی شخص نہیں دیکھا اور میری جن لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی ہے میں نے ان میں سے جابر جعفی سے زیادہ بڑا جھوٹا اور کوئی نہیں دیکھا جب بھی میں اس کے پاس اپنی رائے سے کوئی مسئلہ لے کر آیا۔ تو اس نے اس بارے میں کوئی حدیث سنا دی۔ اور اس نے یہ بات بھی بیان کی کہ اس کے پاس اتنے، اتنے ہزار احادیث ہیں۔ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہیں۔ جن کو ابھی اس نے بیان ہی نہیں کیا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں: تو یہ امام ابوحنیفہ ہیں جو جابر جعفی پر تنقید کر رہے اور جھوٹا قرار دے رہے ہیں، تو یہ بات اس شخص کے موقف کے برخلاف ہے۔ جو خود کو امام ابوحنیفہ کے مسلک کا پیروکار ظاہر کرتا ہے۔ اور اس بات کا قائل ہے کہ ہمارے آئمہ کا اپنی کتابوں میں یہ بات کہنا کہ فلاں راوی ضعیف ہے۔ یہ چیز غیبت ہوتی ہے۔ لیکن جب خود اسے ضرورت پیش آئی۔ تو اس نے اس شخص سے استدلال کرنا شروع کر دیا جسے اس کے شیخ نے جھوٹا قرار دیا ہے۔ اور اس نے اس شخص سے استدلال ایک ایسی چیز کے بارے میں کیا۔ جس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل ترک ہو رہا ہے۔ جہاں تک جابر جعفی کا تعلق ہے۔ تو ہم نے اس کا واقعہ کتاب المجر وحین میں واضح براہین کے ہمراہ ذکر کر دیا ہے۔ جس کا مستند ہونا کسی بھی سمجھدار سے مخفی نہیں ہو گا۔ تو یہاں اس کو دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2107»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (620).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر ما قبله.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حوثرة بن الأشرس العتكي، أبو عامرمقبول
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← حوثرة بن الأشرس العتكي
ثقة