🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
711. باب فرض متابعة الإمام - ذكر وصف قيام المأموم من الإمام إذا أراد الصلاة جماعة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ مأموم اپنے امام کے ساتھ جماعت کی نماز کے لیے کیسے کھڑا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2197
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَشِيَّةً وَدَنَوْنَا مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا فَيَرِدُ الْحَوْضَ فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا؟". قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ؟". فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْبِئْرِ، فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلا أَوْ سَجْلَيْنِ، ثُمَّ مَدَرْنَاهُ، ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّى أَفْهَقْنَاهُ، فَكَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَأْذَنَانِ؟". قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ فَشَرِبَتْ، ثُمَّ شَنَقَ لَهَا فَبَالَتْ، ثُمَّ عَدَلَ بِهَا فَأَنَاخَهَا، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوْضِ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّأِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ، وَكُنْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ، فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَجَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا مِنْ خَلْفِهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ شُدَّ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا جَابِرُ". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " إِذَا كَانَ ثَوْبُكَ وَاسِعًا، فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب شام کا وقت ہوا تو ہم پانی کے علاقے کے قریب پہنچے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون شخص ہم سے آگے جا کر حوض پر پہنچے گا اور خود بھی پانی پیئے گا اور ہمیں بھی پلائے گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں کھڑا ہوا۔ میں نے عرض کی: یہ شخص یا رسول اللہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر کے ساتھ کون شخص ہو گا، تو سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے پھر ہم دونوں چلتے ہوئے کنویں کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک یا شاید دو ڈول نکالے پھر ہم نے اسے بھر دیا، پھر ہم نے اس میں سے پانی نکالا، یہاں تک کہ ہم نے اسے بھر دیا۔ سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے آئے آپ نے دریافت کیا: کیا تم دونوں اجازت دیتے ہو ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو پانی پلانا شروع کیا۔ اس نے پانی پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موقع دیا، تو اس نے پیشاب کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باندھ دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوض کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے اس سے وضو کیا، پھر میں کھڑا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی سے میں نے بھی وضو کیا، پھر سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے مجھ پر ایک چادر تھی جسے میں نے مخالف سمت میں اوڑھا ہوا تھا وہ مجھے پوری نہیں آتی تھی۔ اس کے کچھ کنارے تھے جنہیں میں نے باندھ لیا مخالف سمت میں اوڑھ لیا۔ پھر میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا پھر سیدنا جبار بن صخر آئے۔ انہوں نے وضو کیا، پھر وہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو دونوں ہاتھوں کے ذریعے پکڑا اور ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا جائزہ لیتے رہے مجھے اس کا اندازہ نہیں ہو سکا پھر مجھے اندازہ ہو گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس طرح آپ نے اشارہ کر کے بتایا، اسے باندھ لو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے۔ آپ نے فرمایا: اے جابر! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارا کپڑا کشادہ ہو، تو تم اسے مخالف سمت میں اوڑھ لو لیکن جب وہ تنگ ہو، تو پھر اسے تہبند کے طور پر باندھ لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2197]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2194»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (644): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبادة بن الوليد الأنصاري، أبو الصامت، أبو الوليد
Newعبادة بن الوليد الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥يعقوب بن مجاهد المخزومي، أبو يوسف
Newيعقوب بن مجاهد المخزومي ← عبادة بن الوليد الأنصاري
ثقة
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← يعقوب بن مجاهد المخزومي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← عمرو بن أبي عمرو الكلابى
ثقة