الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
754. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المصرح بمعنى ما أشرنا إليه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ معنی کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2242
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّازُ ، بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً، فَالْتُبِسَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ لأَبِي: " أَشَهِدْتَ مَعَنَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَهَا عَلَيَّ؟" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز ادا کر رہے تھے۔ اس دوران آپ کو شبہ لاحق ہوا جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے میرے والد سے فرمایا کیا تم ہمارے ساتھ (نماز میں) شریک تھے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2239»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (843).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي