صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
765. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأمر بالتسبيح للرجال والتصفيق للنساء إذا حزبهم أمر في صلاتهم
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مردوں کے لیے تسبیح اور عورتوں کے لیے تالی بجانا جائز ہے اگر انہیں اپنی نماز میں کوئی ضرورت پیش آئے
حدیث نمبر: 2260
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلاةُ، فَجَاءَ بِلالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَلْبَثَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟! مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِنْ سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں تشریف لے کے گئے تاکہ ان کے درمیان صلح کروائیں۔ اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور بولے: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے۔ تو میں اقامت کہوں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ لوگ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا)، تم اپنی جگہ پر رہو لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اللہ کے رسول نے انہیں جو یہ حکم دیا تھا۔ اس میںاللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ صف میں آ کر کھڑے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے نماز پڑھانا شروع کی جب آپ نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: اے ابوبکر جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تم اپنی جگہ پر ٹھہرے کیوں نہیں تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے، وہ اللہ کے رسول کے آگے نماز ادا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، میں نے تمہیں دیکھا، تم نے بکثرت تالیاں بجائیں تھیں جس شخص کو نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) کوئی ضرورت پیش آ جائے اسے سبحان اللہ کہنا چاہیئے اگر وہ سبحان اللہ کہے گا، تو اس کی طرف توجہ مبذول ہو جائے گی (نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لیے) تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2257»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (868): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو حازم بن دينار: هو سلمة.
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي