🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
770. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأمر للمصلي أن يبصق عن يساره تحت رجله اليسرى لا عن يمينه ولا تلقاء وجهه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ نمازی اپنا تھوک اپنے بائیں پاؤں کے نیچے بائیں جانب تھوکے، نہ کہ دائیں جانب اور نہ ہی اپنے سامنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَهَذَا رِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟! فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ أَحْمَقُ مِثْلُكَ، فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ، فَيَصْنَعُ بِمِثْلِهِ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟" قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟" فَقُلْنَا: لا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، أَرُونِي عَبِيرًا"، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتَيْهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ، وَلَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ ، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.
عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کی مسجد میں حاضر ہوئے۔ وہ اس وقت ایک کپڑے کو اشتمال کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا ان کے اور قبلہ کے درمیان آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔ آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں حالانکہ آپ کی بڑی چادر آپ کے پہلو میں موجود ہے، تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میرے سینے پر مارا اور بولے: میں یہ چاہتا تھا، تم جیسا احمق آدمی میرے پاس آ کر مجھے دیکھے، میں کیا کر رہا ہوں اور پھر وہ اس کی مانند عمل کرے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے دست اقدس میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسجد کے قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ اس کی طرف گئے اور اسے چھڑی کے ذریعے کھرچ دیا، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم گھبرا گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے، تو وہ اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے اور اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے۔ اسے اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیئے اور اگر بلغم تیزی سے آ رہا ہو، تو وہ اپنے کپڑے میں اس طرح کرے آپ نے اسے مل دیا تم لوگ مجھے کوئی خوشبو دو تو اس قبیلے کا ایک نوجوان تیزی سے اپنے گھر گیا، اور اپنی ہتھیلیوں میں کچھ خوشبو لے کر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس چھڑی کے کنارے پر رکھا اور اس کے ذریعے بلغم کے نشان پر مل دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہیں سے لوگوں نے مسجدوں میں خوشبو رکھنا شروع کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2262»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (500): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير يعقوب بن مجاهد فمن رجال مسلم.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبادة بن الوليد الأنصاري، أبو الصامت، أبو الوليد
Newعبادة بن الوليد الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥يعقوب بن مجاهد المخزومي، أبو يوسف
Newيعقوب بن مجاهد المخزومي ← عبادة بن الوليد الأنصاري
ثقة
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← يعقوب بن مجاهد المخزومي
ثقة
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد
Newعمرو بن أبي عمرو الكلابى ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← عمرو بن أبي عمرو الكلابى
ثقة