صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
783. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الإخبار عن كراهية صلاة المرء وشعره معقوص
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنے بالوں کو باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2280
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ مِنْ وَرَائِهِ، فَجَعَلَ يَحُلُّهُ، وَأَقَرَّ لَهُ الآخَرُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث کو دیکھا، انہوں نے اپنے پیچھے اپنے بال باندھے ہوئے تھے، تو وہ ان کے پیچھے آ کر کھڑے ہوئے اور انہیں کھولنے لگے جبکہ دوسرے صاحب انہیں پہلی حالت پر برقرار رکھنے لگے، جب انہوں نے نماز مکمل کی تو وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: آپ کا میرے سر کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس شخص کی مثال یوں ہے جیسے وہ اس حالت میں نماز ادا کر رہا ہو کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 492، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 910، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2280، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1113، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 705، وأبو داود فى (سننه) برقم: 647، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1421، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2724، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2812» «رقم طبعة با وزير 2277»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (654): م*. * [م] قال الشيخ: وأورده الهيثمي في «موارد الظمآن» (475)؛ فَخَاَلفَ شرطه، فلعله عن سهو.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات، رجال الشيخين غير حرملة فإنه من رجال مسلم، عمرو بن الحارث: هو المصري، وقد سقطت جملة «أن بكيراً حدثه» من الأصل و «التقاسيم» 3/لوحة 92، واستدركت من موارد الحديث.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2280 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي