صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
794. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر وصف وضع المرء طرف الثوب على عاتقه إذا صلى فيه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے کندھے پر رکھے اگر اس میں نماز پڑھے
حدیث نمبر: 2293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ " أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ" .
سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی کپڑے میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جس کے کناروں کو آپ نے مخالف سمت میں ڈالا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2290»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عمر بن أبي سلمة القرشي