صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
892. باب إعادة الصلاة
نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان -
حدیث نمبر: 2396
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ،، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا بِالْبَلاطِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، فَقُلْتُ: مَا يُجْلِسُكَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ،" وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نُعِيدَ صَلاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ فِي نَفْسِهِ ثِقَةٌ يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ إِذَا رَوَى عَنْ غَيْرِ أَبِيهِ، فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فَلا تَخْلُو مِنِ انْقِطَاعٍ وَإِرْسَالٍ فِيهِ، فَلِذَلِكَ لَمْ نَحْتَجَّ بِشَيْءٍ مِنْهُ.
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بلاط میں بیٹھے ہوئے دیکھا لوگ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ لوگ نماز ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نماز ادا کر چکا ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم ایک ہی دن میں کوئی نماز دو مرتبہ ادا کریں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن شعیب نامی بذات خود ثقہ ہے اس کی نقل کردہ روایات سے استدلال کیا جائے گا۔ جب وہ اپنے والد کی بجائے کسی اور کے حوالے سے روایت نقل کرے۔ جہاں تک اس کی ان روایات کا تعلق ہے جو اس نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے نقل کی ہیں تو ان میں انقطاع اور ارسال پایا جاتا ہے اسی وجہ سے ہم ایسی کسی روایت سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2389»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (592).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عمرو بن شعيب، قال ابن معين: إذا حدث عن سعيد بن المسيب أو سليمان بن يسار أو عروة فهو ثقة، وكذا قال المصنف بإثر هذاالحديث، وباقي رجاله ثقات على شرطهما.
الرواة الحديث:
سليمان بن يسار الهلالي ← عبد الله بن عمر العدوي