صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
110. باب ما جاء في صفات المؤمنين - ذكر الإخبار عما يشبه المسلمين من الأشجار-
مومنین کی صفات کا بیان - مسلمانوں کو درختوں سے تشبیہ دینے کی خبر کا ذکر۔
حدیث نمبر: 243
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يُخْبِرُنِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ، أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ، تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا؟" قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَمَنَعَنِي مَكَانُ أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ" ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي، فَقَالَ: لَوْ قُلْتَهَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، أَحْسَبُهُ قَالَ: حُمْرِ النَّعَمِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کون شخص مجھے ایسے درخت کے بارے میں بتائے گا، جس کی مثال بندہ مومن کی طرح ہے، جس کی بنیاد مضبوط ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ وہ ہر وقت اپنے پروردگار کے اذن کے تحت پھل دیتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ کہتے ہیں: میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن اپنے والد صاحب کی موجودگی کی وجہ سے میں ایسا نہیں کر سکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بعد میں) میں نے اپنے والد سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم اس وقت یہ بات کہہ دیتے، تو میرے نزدیک اس چیز سے زیادہ محبوب تھا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 243]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. أبو عمر الضرير هو حفص بن عمر بن عبد العزيز الدوري لا بأس به، كما في "التقريب"، ومن فوقه على شرطهما.
الرواة الحديث:
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي