صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
942. باب الوتر - ذكر الإباحة للمرء أن يوتر من أول الليل أو آخره على حسب عادته في تهجد الليل
وتر نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی رات کے تہجد کی عادت کے مطابق رات کے شروع یا آخر میں وتر پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2447
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَكَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: " رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ" ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: " رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ" ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَانَ يَجْهَرُ بِصَلاتِهِ أَمْ يُخَافِتُ بِهَا؟ قَالَتْ: " رُبَّمَا جَهَرَ بِصَلاتِهِ، وَرُبَّمَا خَافَتَ بِهَا" ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین آپ کیا کہتی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز رات کے ابتدائی حصے میں ادا کرتے تھے یا آخری حصے میں ادا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بعض اوقات آپ وتر رات کے ابتدائی حصے میں ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات آخری حصے میں ادا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اکبر، ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔ میں نے دریافت کیا: اے ام المؤمنین! آپ کیا کہتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بعض اوقات آپ رات کے ابتدائی حصے میں غسل کر لیتے تھے بعض اوقات رات کے آخری حصے میں مسل کرتے تھے، تو میں نے کہا: اللہ اکبر ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے میں نے دریافت کیا: اے ام المومین! آپ کیا کہتی ہیں۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے ہوئے بلند آواز سے قرات کرتے تھے یا پست آواز میں قرأت کرتے تھے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بعض اوقات آپ بلند آواز میں قرأت کرتے تھے اور بعض اوقات پست آواز میں کر لیتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اکبر! ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2438»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (223): ق، الفعل الأول منه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. غضيف بن الحارث عدّه بعضهم تابعياً، والأكثرون قالوا بصحبته وانظر ترجمته فى " أسد الغابة " 4/ 340 و "الإصابة" 3/ 183 - 184 برد أبو العلاء: هو برد بن سنان.
الرواة الحديث:
غضيف بن الحارث السكوني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق