صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
970. باب النوافل - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يصلي الركعات التي وصفناها في بيت لا في المسجد
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیان کردہ رکعتوں کو گھر میں پڑھتے تھے، نہ کہ مسجد میں
حدیث نمبر: 2475
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الْمَغْرِبِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا"، قَالَ: فَقُلْتُ: قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا؟ قَالَتْ:" يُصَلِّي لَيْلا طَوِيلا قَائِمًا"، قُلْتُ: فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا؟ قَالَتْ:" إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ" .
عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ تشریف لے جاتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے۔ پھر آپ واپس آ کر دو رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، پھر آپ واپس آ کر دو رکعات ادا کرتے تھے۔ پھر آپ عشاء کی نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، پھر آپ واپس آ کر دو رکعات ادا کرتے تھے۔ پھر آپ رات کے وقت نو رکعات ادا کیا کرتے تھے میں نے دریافت کیا: آپ یہ بیٹھ کر ادا کرتے تھے یا کھڑے ہو کر ادا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ رات کے وقت کھڑے ہو کر طویل نماز ادا کیا کرتے تھے میں نے دریافت کیا: جب آپ کھڑے ہو کر قرات کرتے تھے (تو رکوع کیسے کرتے تھے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جب آپ کھڑے ہو کر تلاوت کرتے تھے، تو رکوع میں بھی کھڑے ہو کر جاتے تھے اور جب آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے تھے، تو رکوع بھی بیٹھے ہوئے کر لیتے تھے اس کے بعد آپ فجر سے پہلے دو رکعات (سنت) ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2475]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2466»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو كامل الجحدري: هو فضيل بن حسين بن طلحة الجحدري.
الرواة الحديث:
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق