صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1038. فصل في التراويح - ذكر تفضل الله جل وعلا بكتبه قيام الليل كله لمن صلى مع الإمام التراويح حتى ينصرف
تراویح کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے لیے رات بھر کے قیام کا اجر لکھتا ہے جو امام کے ساتھ تراویح پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو
حدیث نمبر: 2547
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ يَنْتَظِرُ اللَّيْلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ"، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلاثَةٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ، وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاحُ، قُلْتُ: وَمَا الْفَلاحُ؟ قَالَ:" السَّحُورُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" قَوْلُ أَبِي ذَرٍّ: لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ، يُرِيدُ: مِمَّا بَقِيَ مِنَ الْعَشْرِ لا مِمَّا مَضَى مِنْهُ، وَكَانَ الشَّهْرُ الَّذِي خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهَذَا الْخَطَّابِ فِيهِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَلَيْلَةُ السَّادِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، وَلَيْلَةُ الْخَامِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ نے ہمیں چھٹی رات میں نوافل نہیں پڑھائے۔ آپ نے ہمیں پانچویں رات میں نوافل پڑھائے تھے یہاں تک کہ آپ رات کا انتظار کرنے لگے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ اس باقی رہ جانے والی رات میں نقل پڑھائیں، (تو یہ مناسب ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص امام کے ہمراہ نماز ادا کرے یہاں تک کہ اسے مکمل کرے تو اسے رات بھر نوافل ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک اس مہینے میں تین دن باقی رہ گئے، تو آپ نے ہمیں تیسری رات میں نماز پڑھائی۔ آپ نے اپنے اہل خانہ اور اپنی ازواج کو بھی اکٹھا کیا آپ نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا، ہماری فلاح رہ جائے گی۔ راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا: فلاں سے مراد کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا سحری۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ چھٹی رات میں آپ نے ہمیں نوافل نہیں پڑھائے۔ آپ نے پانچویں رات میں ہمیں نوافل پڑھائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو عشرہ باقی رہ گیا تھا۔ اس کی چھٹی یا پانچویں رات۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ جو مہینہ گزر چکا تھا۔ اس کی پانچویں یا چھٹی رات، کیونکہ وہ مہینہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ خطاب کیا تھا۔ اس میں انتیس دن تھے۔ تو انتیس دنوں والے مہینے کے باقی حصے کی چھٹی رات چوبیسویں رات تھی۔ اور 29 دن والے مہینے کے باقی حصے کی پانچویں رات پچیسویں رات ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2538»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1245).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
جبير بن نفير الحضرمي ← أبو ذر الغفاري