صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1093. فصل في قيام الليل - ذكر الإباحة للمرء أن يزيد فيما وصفنا من التكبير والتسبيح والتحميد عند افتتاح صلاة الليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی رات کی نماز شروع کرتے وقت ہمارے بیان کردہ تکبیر، تسبیح اور تحمید میں اضافہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2602
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ بِهِ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي: يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ عَشْرًا، ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي عَشْرًا، وَيَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا" .
عاصم بن حمید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے نوافل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے آغاز کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، پھر دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتے تھے، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہتے تھے، پھر دس مرتبہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھتے تھے۔ پھر دس مرتبہ استغفار پڑھتے تھے اور یہ کہتے تھے: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر اور مجھے عافیت دے۔“ یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں قیامت کے دن کی تنگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ کہہ کر اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2602، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1616، وأبو داود فى (سننه) برقم: 766، 5085، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1356، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25742، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29948، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8427» «رقم طبعة با وزير 2593»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (742).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2602 in Urdu
عاصم بن حميد السكوني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق