صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1100. فصل في قيام الليل - ذكر إباحة التطويل في الركوع والقيام للمتهجد بالليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ تہجد کرنے والا رات کی نماز میں رکوع اور قیام کو لمبا کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2609
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فقلت: يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَخْتِمُهَا ثُمَّ يَرْكَعُ، فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى، لا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ إِلا ذَكَرَهُ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کی، میں نے سوچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو آیات کی تلاوت کر کے رکوع میں چلے جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے، میں نے سوچا دو رکعات میں یہ سورہ پوری پڑھ لیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے، میں نے سوچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورہ مکمل کر کے پھر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے اور تقریباً اتنی دیر رکوع میں رہے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب جو بہت عظمت والا ہے“ پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“، «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کو طول دیا، سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے“ پڑھتے رہے۔ (اس تلاوت کے دوران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی خوف دلانے یا عظمت کے اظہار والی کسی آیت کی تلاوت کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 772، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 542، 543، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1897، 2604، 2605، 2609، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1008، وأبو داود فى (سننه) برقم: 871، 874، والترمذي فى (جامعه) برقم: 262، 263، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 888، 897، 1351، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23712» «رقم طبعة با وزير 2600»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (2595). تنبيه!! رقم (2595) = (2604) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2609 in Urdu
صلة بن زفر العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي