صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1109. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 2618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكُنْتَ لا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلا رَأَيْتَهُ مُصَلِّيًا، وَلا نَائِمًا إِلا رَأَيْتَهُ" .
حمید طویل بیان کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں نفلی روزے رکھنا شروع کرتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھتے تھے، آپ اس مہینے میں کوئی بھی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات کسی مہینے میں کوئی بھی نفلی روزہ نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے، آپ اس مہینے میں کوئی بھی روزہ نہیں رکھیں گے اگر تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو تم آپ کو نماز ادا کرتے ہوئے بھی دیکھ لیتے اور اگر سویا ہوا دیکھنا چاہتے تو آپ کو سویا ہوا بھی دیکھ لیتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2609»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (253): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري