صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
127. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
شرک و نفاق کا بیان - ایک دوسری خبر کا ذکر جو ہماری بیان کردہ بات کی تصدیق کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 263
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبٌ لِي بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: لا، قَالَ: فَصَلِّيَا عِنْدَنَا فِي الْحُجْرَةِ، فَفَرَغْنَا، وَطَوَّلَ هُوَ، وَانْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَلَّمَنَا بِهِ أَنْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَقْعُدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى كَانَتْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَليِلا" .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں اور میرا ایک ساتھی ظہر کی نماز کے بعد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تم ہمارے ہاں حجرے میں نماز ادا کر لو، جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے طویل نماز ادا کی۔ نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، تو انہوں نے سب سے پہلی بات ہمارے ساتھ یہ کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے سینگ پر راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے، وہ ان رکعات میںاللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 263]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح: م نحوه - انظر (259).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر الحديث (259).
الرواة الحديث:
العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← أنس بن مالك الأنصاري