صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر البيان بأن كل من أحدث في دين الله حكما ليس مرجعه إلى الكتاب والسنة فهو مردود غير مقبول-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جو شخص دین میں کوئی ایسا حکم ایجاد کرے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر نہ ہو، وہ مردود اور غیر مقبول ہے۔
حدیث نمبر: 27
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ، فَهُوَ رَدٌّ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ہمارے اس معاملے (یعنی دین) میں کوئی نئی چیز پیدا کرے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، تو وہ چیز مردود ہو گی۔“
[صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 27]
[صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 27]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق- انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق