صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1251. باب سجود التلاوة - ذكر الخبر الدال على أن عموم هذا الخبر أريد بعض العموم لا الكل
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس خبر کا عمومیت سے مراد بعض عمومیت ہے، نہ کہ کلی
حدیث نمبر: 2764
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلا سَجَدَ، إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَوَضَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ"، وَقَالَ: يَكْفِينِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة النجم﴾ کی تلاوت کی تو سجدہ تلاوت کیا، حاضرین میں سے ہر شخص نے سجدہ تلاوت کیا صرف ایک شخص نے نہیں کیا، اس نے مٹھی میں کنکریاں لیں اور اپنی پیشانی کے ساتھ لگا دیں اور بولا: ”میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اس شخص کو دیکھا، وہ کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1067، 1070، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 576، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 553، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2764، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 958، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1406، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3773، 3775، 3834، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3757» «رقم طبعة با وزير 2753»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1267): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2764 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود