صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1259. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن في الجمعة ساعة يستجاب فيها دعاء كل داعي
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2772
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ، أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلَّقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، مِنْ حِينِ تُصْبِحُ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلا الْجِنَّ وَالإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" ، قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيَّ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا، وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلِيَاءَ، أَوْ مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" ، شَكَّ أَيُّهُمَا. قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ، وَمَا حَدَّثَتْهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: وَذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ، قُلْتُ: ثُمَّ قَرَأَ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ، ثُمّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا وَلا تَضِنَّنَ عَلَيَّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي"، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لا يُصَلَّى فِيهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ فَهُوَ فِي صَلاةٍ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَلَى، قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں کوہِ طور کی زیارت کے لیے روانہ ہوا تو میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا، انہوں نے مجھے تورات کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں اور میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں بتایا، میں نے انہیں جو احادیث بیان کی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں زمین پر اتارا گیا، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، ہر جانور جمعہ کے دن (گھبراہٹ کی وجہ سے) چیختا ہے اس وقت سے جب صبح (صادق) ہوتی ہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آئے (تو وہ چیخنا بند کر دیتا ہے)، وہ ایسا قیامت کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے، اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں اگر مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا۔“ اس پر کعب الاحبار نے کہا: یہ خصوصیت پورے سال میں صرف کسی ایک دن میں ہوتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں! بلکہ ہر جمعے میں ہوتی ہے، پھر کعب نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا: کوہ طور سے۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو (تمہیں بتاتا) تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مسجد بیت المقدس۔“
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، پھر میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا اور جمعہ کے دن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا: ہے، یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا: ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی، یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے، پھر عبداللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو۔“ تو اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ ”جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2772]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا: کوہ طور سے۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو (تمہیں بتاتا) تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مسجد بیت المقدس۔“
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، پھر میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا اور جمعہ کے دن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا: ہے، یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا: ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی، یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے، پھر عبداللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو۔“ تو اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ ”جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 935، 5294، 6400، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 852، وابن الجارود فى "المنتقى"، 311، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2772، 2773، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1031، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 488، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1137، 1139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7272»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
(1) صحيح - «صحيح أبي داود» (962)، «أحكام الجنائز» (287). <br> (2) صحيح - «صحيح أبي داود» (962)، «أحكام الجنائز» (287). * [لاَ تُعْمَلُ] قال الشيخ: المشهور في أكثر الأحاديث: «لا تشد ... ». <br> (3) صحيح - «صحيح أبي داود» (962)، «أحكام الجنائز» (287).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
(1) إسناد صحيح على شرط الشيخين <br> (2) إسناد صحيح على شرط الشيخين <br> (3) إسناد صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2772 in Urdu
عبد الله بن سلام الخزرجي ← أبو هريرة الدوسي