صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1266. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن هذا الفضل قد يكون للمتوضئ إذا أتى الجمعة بهذه الأوصاف وإن لم يغتسل لها
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ فضیلت اس شخص کے لیے بھی ہو سکتی ہے جو ان شرائط کے ساتھ جمعہ کو وضو کر کے آئے، چاہے اس نے غسل نہ کیا ہو
حدیث نمبر: 2779
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَسَمِعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى، فَقَدْ لَغَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَدْ يَتَوَهَّمُ مَنْ لَمْ يَسْبُرْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ الْجُمُعَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ ثَمَانِيَةُ أَيَّامٍ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَقُلْ غُفِرَ لَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَوَقْتُ الْجُمُعَةِ زَوَالُ الشَّمْسِ، فَمِنْ زَوَالِ الشَّمْسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى زَوَالِ الشَّمْسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى سَبْعَةُ أَيَّامٍ، وَقَوْلُهُ:" زِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ" تَمَامُ الْعَشْرِ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160، وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْمَرْءَ قَدْ يَعْمَلُ طَاعَةَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ بِهَا ذَنُوبًا لَمْ يَكْتَسِبْهَا بَعْدُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور (خطبے) کو سنے خاموش رہے، تو اس شخص کے اس جمعے سے لے کر آگے جمعے تک اور مزید تین دن کے (گناہوں) کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جو شخص کنکریوں کو چھوتا ہے وہ لغو کا مرتکب ہوتا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک آٹھ دن بنتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے کہ ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعے تک کے (آٹھ دن ہیں بلکہ یہ کہ) اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ تو جمعے کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے، تو جمعہ کے دن سورج ڈھلنے کے بعد سے اگلے جمعے کے سورج ڈھلنے تک سات دن بنتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اس کے علاوہ مزید تین دن تو اس طرح دس دن پورے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو شخص نیکی کرتا ہے تو وہ دس گنا بن جاتی ہے“۔ یہ وہ بات ہے جس کے بارے میں ہم نے اپنی کتابوں میں یہ بات نقل کی ہے کہ آدمی جب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے متعلق عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے جن کا ارتکاب وہ بعد میں نہیں کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 857، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1756، 1762، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1231، 2778، 2779، 2780، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 343، 1050، والترمذي فى (جامعه) برقم: 498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1025، 1090، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9615» «رقم طبعة با وزير 2768»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (371 و 9064): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2779 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي