صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1280. باب صلاة الجمعة - ذكر نفي حضور الجمعة عمن حضرها إذا لغا عند الخطبة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کی نفی کہ جو شخص خطبہ کے وقت لغو بات کرے اس نے جمعہ کی موجودگی حاصل کی
حدیث نمبر: 2794
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، أَوْ كَلَّمَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَظَنَّ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا مَوْجِدَةٌ، فَلَمَّا انْفَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا أُبَيُّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَيَّ؟ قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَحْضُرْ مَعَنَا الْجُمُعَةَ، قَالَ: بِمَ؟ قَالَ: تَكَلَّمْتَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَامَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ أُبَيُّ، أَطِعْ أُبَيًّا" ، هَذَا لَفْظُ عَبْدِ الأَعْلَى.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ انہوں نے ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا: یا ان سے کسی چیز کے بارے میں کوئی بات کی تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ سمجھے، شاید سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کسی بات پر ناراض ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابی! کیا وجہ ہے، تم نے مجھے جواب نہیں دیا، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہمارے ساتھ جمعے میں شریک نہیں ہوئے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ دینے کے دوران تم نے کلام کیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ابی نے ٹھیک کہا: ہے تم ابی کی بات مان لو۔ روایت کے یہ الفاظ عبدالاعلیٰ کے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2783»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 257 و 258)، «الصحيحة» (2251).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عيسى بن جارية الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري